ڈاکٹر اسرار احمد: ایک عہد ساز مفکر اور مصل
ڈاکٹر اسرار احمد بیسویں صدی کے ایک ممتاز اسلامی مفکر، مفسرِ قرآن، مبلغ اور مصلح تھے جنہوں نے نہ صرف برصغیر میں بلکہ پوری دنیا میں اسلامی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی شخصیت علم، اخلاص، عمل اور فکرِ اسلامی کا حسین امتزاج تھی۔ ڈاکٹر صاحب کا پیغام ہر دور کے انسان کے لیے فکر و عمل کا راستہ دکھاتا ہے، اور ان کی تحریری و تقریری خدمات آج بھی زندہ اور مؤثر ہیں۔
ڈاکٹر اسرار احمد 26 اپریل 1932 کو ہندوستان کے علاقے ہریانہ کے شہر ہسار میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان لاہور منتقل ہو گیا۔ انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے طب کی تعلیم حاصل کی اور ایم بی بی ایس کیا، تاہم طب کا پیشہ ترک کرکے دین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ یہ فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی کا اصل نصب العین دینِ اسلام کی سربلندی اور امت کی اصلاح تھا۔
ڈاکٹر اسرار احمد نوجوانی میں جماعت اسلامی کے فعال رکن رہے اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے افکار سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ تاہم، بعد ازاں بعض نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر انہوں نے جماعت اسلامی کو خیر باد کہہ دیا۔ 1975 میں انہوں نے تنظیم اسلامی کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد ان کے بقول “اقامتِ دین” تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک انقلابی جدوجہد ہی اسلام کو بحیثیت نظام نافذ کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد کی سب سے بڑی پہچان ان کی قرآن فہمی کی دعوت ہے۔ ان کی قرآن کے ساتھ محبت، فہم اور تدبر کا انداز منفرد تھا۔ انہوں نے “بیان القرآن” کے نام سے اردو زبان میں قرآن کریم کی تفسیر بھی کی، جو عوام و خواص میں یکساں مقبول ہوئی۔ ان کے خطابات، خاص طور پر “درس قرآن” کے عنوان سے پیش کیے جانے والے دروس، ہزاروں لوگوں کی ہدایت اور اصلاح کا ذریعہ بنے۔
ان کا یہ ماننا تھا کہ قرآن کو صرف تلاوت یا زبانی یاد کرنے کے بجائے اس کے پیغام کو سمجھ کر زندگی میں نافذ کرنا ہی اصل مقصد ہونا چاہیے۔ وہ قرآن کو “کتابِ ہدایت” سمجھتے تھے اور اس کے انقلابی پہلو پر خاص زور دیتے تھے۔
تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد کی فکر کا عملی مظہر ہے۔ اس تنظیم کا مقصد ایک ایسے معاشرے کا قیام ہے جو خالصتاً اسلامی اصولوں پر مبنی ہو۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ کہنا تھا کہ جب تک مسلمانوں کی زندگیوں میں قرآن کا عملی نفاذ نہیں ہوگا، اس وقت تک ان کی پستی ختم نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے اپنی تنظیم کے ذریعے افراد کی تربیت، اصلاحِ معاشرہ اور اقامت دین کے لیے مختلف علمی و تربیتی پروگرامز کا آغاز کیا۔
ڈاکٹر اسرار احمد کا پیغام صرف جلسوں اور دروس تک محدود نہ رہا بلکہ انہوں نے میڈیا، خاص طور پر ٹیلی ویژن اور کیسٹز کے ذریعے لاکھوں دلوں تک رسائی حاصل کی۔ ان کے دروس اور تقاریر آج بھی یوٹیوب اور مختلف پلیٹ فارمز پر دستیاب ہیں، جنہیں دنیا بھر میں سنا اور سراہا جاتا ہے۔
ان کی زبان میں سادگی، فکر میں گہرائی، اور انداز میں اثر انگیزی تھی۔ وہ بغیر کسی لاگ لپیٹ کے بات کرتے اور حقائق کو پوری جرأت کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ ان کے خطابات میں علمی وسعت کے ساتھ اخلاص اور جذبات کی شدت بھی ہوتی تھی۔
اگرچہ ڈاکٹر اسرار احمد کی خدمات قابل تحسین ہیں، لیکن ان کی بعض آراء پر مختلف مکاتب فکر کی جانب سے تنقید بھی کی گئی۔ خاص طور پر ان کے اجتہادی موقف اور بعض تاریخی واقعات کی تشریحات پر اختلافات پائے گئے۔ تاہم، ان کی نیت، اخلاص اور دین سے وابستگی پر کسی کو شک نہیں تھا۔ ان کا مقصد ہمیشہ امت کی بھلائی اور فکری بیداری رہا۔
ڈاکٹر اسرار احمد 14 اپریل 2010 کو لاہور میں وفات پا گئے۔ ان کی وفات بلاشبہ ایک عہد کا خاتمہ تھا۔ ان کے بعد بھی ان کے افکار، دروس اور تنظیم اسلامی کے ذریعے ان کی دعوت کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا پیغام آج بھی نوجوانوں کو جھنجھوڑتا ہے اور ان کے فکر کو بیدار کرتا ہے۔
المختصر ڈاکٹر اسرار احمد کا شمار ان چند شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے دین کو صرف عبادات یا رسوم کی حد تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک مکمل نظامِ زندگی کے طور پر پیش کیا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر اخلاص، علم اور جدوجہد ہو تو ایک فرد بھی ملت کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ان کے افکار آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کے پیغام کو سمجھیں، اس پر عمل کریں اور اس کو آگے بڑھائیں۔
*ڈاکٹر اقبال احمد*
#DrIsrarAhmed Drisrarahmadd






