Saturday, September 12, 2026
spot_img
HomePoonchہیڈ ماسٹر مولانا عبدالغنی قاسمی صاحب ایک ماہر تعلیم کی باوقار ریٹائرمنٹ

ہیڈ ماسٹر مولانا عبدالغنی قاسمی صاحب ایک ماہر تعلیم کی باوقار ریٹائرمنٹ

ہمارے ہر دل عزیز اور معروف صاحب قلم حضرت مولانا مقصوداحمد ضیائی صاحب حفظہ اللّٰہ نے یہ پر مسرت خوش خبری سنائی کہ ہمارے سنئیر دوست فاضل عالم ، ایک مخلص ، جفا کش اور محنتی معلم جناب مولانا ماسٹر عبدالغنی قاسمی صاحب حال ہی میں اپنے طویل اور شان دار کیرئیر کے ساتھ جموں و کشمیر کے شہر پونچھ میں اپنی مدت ملازمت مکمل کرکے سبکدوش ہوگئے ہیں۔ جناب مولانا ماسٹر عبدالغنی قاسمی صاحب ایک باوقار عالم اور ایک فاضل ماہر تعلیم ہیں وہ اللّٰہ تعالٰی کی ذات کے ساتھ بھی سچے پکے صادق اور مخلص اور اس کی مخلوق کے ساتھ بھی پوری صداقت اور اخلاص کے جذبے سے پیش آتے ہیں وہ اچھی انسانی صفات اور بلند اسلامی اخلاقی تعلیمات کا بہترین مرقع ہیں۔ ان کو دیکھنے ، ان سے بات کرنے اور ان کی شخصیت کو دیکھنے کے بعد انسان خود یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ انتہائی نیک ، شریف الطبع ، مخلص انسان سے مل رہا ہے جو اپنے دل میں ہر انسان کے لئے نیکی اور ہمدردی کے بے پناہ جذبات لئے ہوئے ہے۔ ماسٹر صاحب ماشاءاللّٰه وزارتِ تعلیم کے پونچھ سے ہیڈ ماسٹر کے مؤقر عہدے سے بڑی عزت و توقیر کے ساتھ سبکدوش ہوگئے ہیں ؛ ماسٹر صاحب میرے بہت مخلص ، بڑے اور سنئیر فاضل دوست ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میرا بچپنا تھا جب جامعہ ضیاء العلوم پونچھ میں میرا داخلہ ہوا تو ماسٹر صاحب اس وقت وہاں پرانے تھے اور مجھ سے کافی سنئیر تھے اور جامعہ ضیاء العلوم کے بہترین نعت خواں بھی تھے۔ ان کی طبیعت کی شرافت اور اخلاص و محنت کے جذبے اور زندگی میں کچھ اچھا کر گزرنے کے نیک عزم و ارادے کے آثار نمایاں تھے پھر وہ ضیاء العلوم سے نکلے اور ازھر الھند دارالعلوم دیوبند چلے گئے اور وہاں سے بڑے اچھے نمبرات سے کامیابی کے ساتھ اور اپنے اساتذہ کی خصوصی توجہ سے تعلیم کا ایک مرحلہ عبور کیا اس دوران دارالعلوم دیوبند کا قضیہ نامرضیہ بھی پیش آیا مگر حضرت الاستاذ مولانا غلام قادر صاحب بانی و مہتمم جامعہ ضیاءالعلوم پونچھ کی توجہات کی بدولت آپ کا تعلیمی مرحلہ بحسن و خوبی مکمل ہوا ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات کے مصداق آپ نے اپنی تعلیم و ترقی کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ محکمہ تعلیم جموں و کشمیر میں استاذ کے معزز منصب پر فائز ہوئے اور ان کا اس منصب کے لئے باعزت طور سے تقرر کیا گیا اور آپ نسلوں کی تعلیم و تربیت کی عظیم ذمہ داری کو پورے جذبے ، اخلاص اور جوش و خروش سے ادا کرنے میں مشغول ہوگئے۔ بقول شاعر

ڈاکٹر عبدالرشید ندوی

میں کہاں رکتا ہوں عرش وفرش کی آواز سے
مجھ کو جانا ہے بہت اونچا حد پرواز سے

ماسٹر صاحب سے میرا طویل تعلق شخصی بھی ہے اور خاندانی سطح پر بھی ہے جب ہم ضیاء العلوم میں تھے ان کے والد مرحوم جناب مولوی غلام حسین صاحب مدرسے میں میرے مشفق بزرگوں میں سے تھے ، وہ جامعہ کے سفیر بھی تھے اور وہاں دوسری متعدد ذمہ داریاں بھی سنبھالتے تھے اور اور درزی و سلائی کا بھی بہت اچھا کام جانتے اور کرتے تھے۔ ہمارے اس وقت کے اعتبار سے ایک پروفیشنل ٹیلر ماسٹر تھے اور اس خاکسار کے ساتھ بہت خاص شفقت کرتے تھے اور یہ میرے ایک چھوٹے طالب علم ہونے کی حثیت سے بھی تھا اور اس لئے بھی تھا کہ وہ میرے والد مرحوم حضرت مولانا قاضی محمد حسن صاحب رحمہ اللّٰہ کے رفقاء اور دوستوں میں سے تھے اسی لیے اس خاکسار کے ساتھ خصوصی توجہ اور شفقت کا معاملہ فرمایا کرتے تھے اور اسی طرح سے سارے طلباء کے ساتھ ان کا معاملہ بڑی شفقت کا ہوا کرتا تھا۔ ماسٹر صاحب جب ضیاء العلوم سے اپنی تعلیم کا ابتدائی مرحلہ مکمل کرکے دارالعلوم دیوبند گئے تو پھر جامعہ کی نعت خوانی کی ذمہ داری اس خاکسار کے سر رہی ، یاد رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب جامعہ کے تعارفی بڑے بڑے جلسے ہمارے علاقہ کے دور دراز گاؤں دیہاتوں اور مختلف و متعدد مقامات پر ہوا کرتے تھے اور مہتمم جامعہ ضیاء العلوم مولانا غلام قادر صاحب مدظلہ العالی کے مستقل اسفار میں اس خاکسار کو ساتھ رہنا پڑتا تھا۔ ایک چھوٹے شرارتی ، لا ابالی طالب علم ہونے کے باوجود حضرت مولانا غلام قادر صاحب مدظلہ العالی کے ساتھ ایک نعت خواں کی حیثیت سے کئی کئی دنوں تک سفر میں ساتھ میں رہنا پڑتا تھا ، اپنے بچپنے کی ساری شرارتوں ، مستیوں اور ناسمجھیوں کے باوجود مختلف جگہوں ، مختلف علاقوں ، دور دراز کے گاؤں دیہاتوں اور مختلف مزاج کلچر اور اپچ کے لوگوں کو دیکھ کر اور مل کر بڑا مزہ آتا تھا اور حضرت کے ساتھ اور پھر نعت خواں کی حیثیت سے لوگوں میں قدر سے اپنی معنویت بڑی بلند رہتی تھی۔ ان اسفار میں جو ان دنوں مسلسل ہوا کرتے تھے جامعہ ضیاء العلوم سے آٹھ دس افراد پر مشتمل ہماری ایک پوری ٹیم ہوا کرتی تھی۔
اسی سلسلے کا ایک جلسہ مولانا نے اپنے آبائی گاؤں گوتریاں میں ماسٹر عبدالغنی قاسمی صاحب کے گھر ان کے والد مرحوم جناب پاپا غلام حسین رحمہ اللّٰہ کی موجودگی میں ان کے مکان کی چھت پر کیا تھا اور اس موقع سے مجھ خاکسار کی ملاقات ان کی والدہ محترمہ سے بھی ہوئی تھی اور انھوں نے بڑی خصوصی شفقت فرمائی تھی پھر یہ تعلق جاری و برقرار رہا اور سفر و دوری کے سارے حالات کے باوجود اس میں کوئی کمی نہ ہوئی اور ان بزرگوں کا پیار ، ان کی شفقتیں اور دعائیں بھی ساتھ رہیں یہ سارے لوگ انتہائی بزرگ ، نیک ، دین دار اور خدا مست افراد تھے۔ جو دنیا داری کے جھمیلوں سے دور خدا سے لو لگانے والے لوگ تھے دنیا اور دنیا داری کی ساری فکروں سے آزاد ، خدا مستی میں مست و غرق رہتے تھے۔ کہ اچانک چند سال ابتلاو آزمائش کے بھی آگئے۔ لیکن آزمائش و ابتلاء مومن کی زندگی میں خیر کا ذریعہ ہوتی ہے مشکل حالات میں ایمانی استقامت نے ان کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہ آنے دی اور آپ باعزت سرخرو ہوکر نکلے

تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

آج مولانا عبدالغنی قاسمی صاحب جہاں ہزاروں شاگردوں کی تعلیم وتربیت کی عظیم ذمہ داری ادا کر کے بڑے باوقار انداز میں اپنی سرکاری ذمہ داری سے سبکدوش ہوئے ہیں وہاں وہ تعلیم و تدریس ، تربیت اور انتظامی امور اور علمی و عملی اور دعوتی و اصلاحی میدانوں میں طویل تجربات لے کر بھی نکلے ہیں۔ جن سے یقینی طور پر ہمارے دینی ، دعوتی ، اصلاحی ، تعلیمی و تربیتی اور ملی خدمات انجام دینے والی تنظیموں اور اداروں کو بھرپور استفادہ کرنا چاہئے اور ان کے طویل تجربات اور قیمتی صلاحیتوں کو یونہی بے سود نہیں جانے دینا چاہئے بلکہ ان سے جس حد تک استفادہ ممکن ہو استفادہ کرنا چاہئے۔ عالم دین جہاں بھی جائے دعوت و اصلاح کا پیغام ہرجگہ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ ہر جگہ اس ذمہ داری کو پورے جذبے سے ادا کرنے کی سعی کرتا ہے۔ماسٹر صاحب ایک باصلاحیت ، علم کی گہرائی و گیرائی کے ساتھ ایک فاضل شخصیت ہیں اور مخلص علم دوست انسان ہیں۔ ماسٹر صاحب نے ہماری بڑی بہن جوکہ سابقہ ریٹائرڈ ٹیچر ہیں ایک ہی اسکول میں ایک عرصے تک ڈیوٹی کی ہے وہ بھی اور ان کے ساتھ رہنے والے ان کے معاصرین اور سارے وہ لوگ جنہوں نے کبھی بھی ان سے کسی قسم کا معاملہ کیا یا تعلق رکھا وہ سب ان کے بلند اخلاق ، علمی گیرائی ، دعوتی جذبے ، اصلاح کی فکر ، دینی التزام اور اعلٰی اخلاقی انسانی صفات کی گواہی دیتے ہیں اور ہماری بڑی بہن زبیدہ بیگم صاحبہ بھی ان کی ان اچھی صفات کی گواہی دیتی ہیں اور ان کا ذکر خیر کرتی ہیں۔
ماسٹر صاحب اپنے علم و فضل اور گونا گوں صلاحیتوں اور تعلیمی و تدریسی میدانوں میں اپنے طویل تجربات کے ساتھ ساتھ ایک مخلص عالم اور ایک پرہیز گار ، متقی ، خدا مست ، توحید پرست اور دینی و اسلامی شعائر کا بڑا التزام رکھنے والے انسان ہیں وہ طیش میں خوف خدا اور عیش میں یاد خدا کو اپنی زندگی میں خصوصی اہمیت دیتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اول الذکر کا ان کی نرم خو طبیعت سے کوئی میل نہیں ہے بلکہ وہ ہرحال میں یاد خدا کو اپنی حیات مستعار کا شعار بنائے رکھتے ہیں۔ بقول بہادر شاہ ظفرؒ کہ

ظفر اس کو نہ جانئے گا
ہو وہ کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی
جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
ماسٹر صاحب کی زندگی میں صبر و عزیمت کی صفت بھی بڑی خاصے کی چیز ہے ان کی ایک بچی کا ایک حادثے میں انتقال ہوگیا تھا ہم تعزیت کے لئے حاضر ہوئے تو ہم نے ان کو اور ان کی اہلیہ و فیملی کو صبر و عزیمت کا پہاڑ دیکھا اور ان کی مومنانہ صفات کا اندازہ ہوا اللّٰہ تعالٰی کی تقدیر پر یقین اور اس کے فیصلوں پر ایمان و اطمینان کا اظہار یہ ہر انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی یہ مومن صفت انسان کے توکل، اللّٰہ کی ذات پر بھروسے اور اس کے لکھے پر مکمل یقین کی بات ہے جو ایمان کی علامتوں میں سے ہے۔
“وَعَنْ أبي يَحْيَى صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله ﷺ: عَجَباً لأمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَلِكَ لأِحَدٍ إِلاَّ للْمُؤْمِن: إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْراً لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خيْراً لَهُ. رواه مسلم”
کہ مومن کی زندگی کا سارا معاملہ خیر ہی خیر ہے اور یہ خصوصیت صرف مومن کو ہی حاصل ہے اگر اس کو خوشی نصیب ہوتی ہے تو وہ شکر گزار ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی دکھ تکلیف اور نقصان پہونچتا ہے تو وہ اللّٰہ تعالٰی کی تقدیر اور اس کے فیصلوں پر یقین کرکے صبر کرتا ہے اور ہرحال میں اس کو اجر ملتا ہے۔ زندگی کے کئی مراحل میں آپ کو بڑی مشکلات اور آزمائشوں سے گزرنا پڑا لیکن ہر موقع سے آپ نے صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور اس سے اللّٰہ تعالٰی کی بارگاہ میں ان کے نامہ اعمال کے رجسٹر میں بڑا اجر و ثواب ان شاءاللّٰہ لکھا ہوگا اور ان ساری متعدد آزمائشوں پر مستقل صبر کئے رہنے پر اجر و ثواب کا سلسلہ بھی مستقل طور پر ان شاءاللّٰہ جاری وساری رہے گا۔ ماسٹر صاحب میرے محسن بزرگ دوست ہیں اور ایک اچھے ماہر تعلیم ہیں ظاہر ہے کہ جب آپ ہیڈ ماسٹر کے مؤقر تعلیمی تدریسی اور تربیتی عہدے تک پہونچ کر اپنے اس سرکاری منصب سے سبکدوش ہوئے ہیں تو یہ ایک طویل تجربات اور لمبے پیشہ ورانہ سفر کی کہانی ہے مجھے بہت خوشی ہے کہ ماسٹر صاحب کے دو بھانجے مولانا مقصوداحمد ضیائی صاحب مدرس جامعہ ضیاء العلوم پونچھ جو کہ ایک اچھے فاضل اور بہترین قلم کار و ادیب اور مصنف ہیں اور دوسرے حافظ و قاری مولانا جمیل احمد قاسمی صاحب جو کہ ایک اچھے عالم حافظ قاری اور فاضل انسان ہیں اور ماشاءاللّٰه پونچھ محلہ ڈونگس میں الفلاح ایجوکیشنل سوسائٹی اور اقراءانٹرنیشنل اسکول کے بانی و صدر بھی ہیں اور قطر میں ایک باوقار عہدے پہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ دونوں فضلاء مجھ سے بڑا تعلق اور حسن ظن رکھتے ہیں اور اپنوں ، دوستوں ، احباب ، عزیزوں اور متعلقین و مخلصین کا حسن ظن انسان کا سرمایہ حیات ہوتا ہے جس کی کوئی قیمت نہیں لگ سکتی۔ اللّٰہ تعالٰی سے دعا ہے کہ ہمارے محسن بزرگ اور مخلص دوست جناب ماسٹر عبدالغنی قاسمی صاحب کی صحت و حیات میں برکت عطا فرمائے اور دونوں محبان حافظ مقصود احمد ضیائی اور قاری جمیل احمد قاسمی صاحبان سے صحت و سلامتی کے ساتھ دین و دنیا کی خوب خدمات لے اور ان کی توفیق اور علم و عمل کے خزانوں میں اضافہ فرمائے
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

ڈاکٹر عبدالرشید ندوی

spot_imgspot_img

FOLLOW US

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Al Shifa Diagnostic Laboratory Surankote

- Advertisment -spot_imgspot_img
spot_imgspot_img

Most Popular

Recent Comments