Saturday, September 12, 2026
spot_img
HomeArticleجدید ہندوستان میں عصری تعلیم کے معمار سرسید احمد خان علیہ الرحمہ 

جدید ہندوستان میں عصری تعلیم کے معمار سرسید احمد خان علیہ الرحمہ 

 

سر سید احمد خاں کو آج پوری دنیا میں خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے ان کی خدمات کا اعتراف کیا جارہا ہے۔ مصلح معاشرہ اورمعمارِ قوم سرسید احمد خاں کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے۔ سرسید احمد خاں نے جس تعلیم کی شمع علی گڑھ میں روشن کی تھی۔ اس کی روشنی آج صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور انسانی اذہان کو منور کر رہی ہے۔ سر سید کا کہنا تھا کہ تعلیم سستی اور آسان ہو اور ہر کسی کو تعلیم آسانی سے مل سکے۔ سر سید احمد خاں مصلح قوم اور اردو ادب کے عظیم محسن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مفکر و مبلغ بھی تھے سر سید کی سیاسی، سماجی اورمذہبی، تہذیبی اور تعلیمی کوششوں کے نتیجے میں نئے افق روشن ہوئے ،تعلیم کے ساتھ اردو شعر و ادب کو بھی ایک نئی جہت ملی ، نثر کو ایک کبھی نہ مٹنے والا اسلوب عطا ہوا۔

 

انھوں نے سماج کے ان بنیادی مسائل کو اپنا مقصد حیات بنایا جن کو حل کیے بغیر ملک کے باشندوں کا مستقبل روشن نہیں ہوسکتا تھا یہی وجہ ہے کہ ان کے بعد نہ جانے کتنی تحریکیں آئیں اور گئیں لیکن ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی سرسید کی تحریک پرانی نہیں ہوئی بلکہ آج اس صدی میں بھی اس سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ سر سید کی بے لوث خدمات سے ان کے افکار و نظریات سے جہاں ایک طرف مسلمان طبقہ مستفید ہو رہا تھا، ان کی زندگی میں ایک نیا آفتاب طلوع ہورہاتھا،سرسید کی خدمات کا اعتراف اور حمایت کرنے والوں کا ایک بڑا حلقہ ہے – روشن خیال طبقے نے انھیں ’’مجتہدالعصر‘‘ اور ’’امام زمانہ ‘‘کے نام سے یاد کیا۔

 

ماہرین علم وفن اور دانشوروں نے انھیں زمانہ شناس، دور اندیش کے خطاب سے نوازا۔سیاسی میدان میں جہاں انھیں ابن الوقت کہا تو دوسری طرف سیاسی دانشواران نے ان کی ذہانت و متانت ان کی دور بینی کے سبب انھیں مصلح قوم کے نام سے یاد کیا۔ ان تمام باتوں کے باوجود اہل علم و نقد و نظر حتیٰ کہ ان کے مخالفین بھی فکری و نظریاتی اختلاف کے باوجود اس بات پر متفق نظر آتے ہے کہ سر سید احمد خاں کی شخصیت ایک سماجی، سیاسی، تمدنی، ثقافتی اور تہذیبی ادارے اور انجمن جیسی ہے جس نے مسلمانوں کی زندگی اور ان کی زندگی سے متعلق مختلف گوشوں کے رخ موڑنے، اس میں نئے امکانات روشن کرنے، زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے میں اپنی ذات سے بلند تر ہوکر سوچنے اور مسلسل کوششیں کرتے رہنے کی طرح ڈالی۔ آج مسلمانوں کی علم پر مبنی جو ترقی پسندانہ سوچ ہے ان میں جو بھی جدید تبدیلیاں، جو فکر و تحریک نظر آرہی ہے اس کی بنیاد برسوں پہلے سرسید احمد خاں نے ہی رکھی تھی، سر سید نے جو بیج برسوں پہلے بویا تھا آج تناور درخت کے مانند ہم سب کے سامنے ہے۔

 

سرسید کوبہت پہلے ہی یہ احساس ہوگیا تھا کہ اگر مسلمان نہیں سنبھلے اور وقت کے ساتھ آگے نہیں بڑھے تو ان کو تباہ و برباد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتاتھا ،سرسید کی تعلیمی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی ادبی خدمات بھی قابل تقلید ہیں جدید اردو نثر کے بانی سرسید احمدخاں کانثری اسلوب انتہائی منفرد،مفید ،خطیبانہ، ناصحانہ ،مفکرانہ ، مبلغانہ سلیس اور سادہ ہے، ان سے پہلے عام طور پرمسجع، مقفیٰ ،رنگین ، پر تصنع اور پر تکلف نثر لکھنے کا رواج تھا اور ایسے ہی مرصع رقم کو باکمال انشاپرداز سمجھا جاتا تھا، مگر سرسید نے سب سے قطع نظر ایک نئی راہ نکالی اور ایک نئے انداز کے نثر کی بنیاد ڈالی جس کو نہ صرف پسند کیا گیا بلکہ اس کی تقلید میں سیکڑوں قلم کار آگے آگئے۔

 

اس عظیم مفکر و معلم نے اساتذہ اور طلبہ کو یہ ہدایت و تلقین کی کہ انہیں مقاصد و منزل کی جستجو میں ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا ہے ، بے جا تنقید کرنے والے حاسدین اور منافقین کو نظرانداز کرتے ہوئے تعلیم کے ایسے چراغ روشن کرنے ہیں جن کی روشنی سے اپنا گھر معاشرہ اور ملک سبھی منور ہوجائیں اور تمام دنیا کے امن پسند لوگوں کے دل و دماغ بھی روشن ہوجائیں-

 

سرسید کا نقطۂ نظر تھا کہ مسلم قوم کی ترقی کی راہ تعلیم کی مدد سے ہی ہموار کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ جدید تعلیم حاصل کریں اوار دوسری اقوام کے شانہ بشانہ آگے بڑھیں۔ انہوں نے محض مشورہ ہی نہیں دیا بلکہ مسلمانوں کے لیے جدید علوم کے حصول کی سہولتیں بھی فراہم کرنے کی پوری کوشش کی۔ انہوں نے سائنس٬ جدید ادب اور معاشرتی علوم کی طرف مسلمانوں کو راغب کیا۔ انگریزی کی تعلیم کو مسلمانوں کی کامیابی کے لیے زینہ قرار دیا تاکہ وہ برادران وطن کے مساوی و معاشرتی درجہ حاصل کر سکیں۔1859ء میں سرسید نے مراد آباد اور 1862ء میں غازی پور میں مدرسے قائم کیے۔ ان مدرسوں میں فارسی کے علاوہ انگریزی زبان اور جدید علوم پڑھانے کا بندوبست بھی کیا گیا-

 

سرسید احمد خان مسلمانوں کی ابتر حالت اور معاشی بدحالی کو دیکھ کر بہت کڑھتے تھے آپ مسلمانوں کو زندگی کے باعزت مقام پر دیکھنا چاہتے تھے اور انہیں ان کا جائز مقام دلانے کے خواہاں تھے۔ آپ نے مسلمانوں کی رہنمائی کا ارادہ کیا اور انہیں زندگی میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی تلقین کی۔

 

سرسید احمد خان نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی موجودہ حالت کی زیادہ ذمہ داری خود مسلمانوں کے رویے کی وجہ سے ہے-مسلمان جب تک علم جدید کی طرف راغب نہیں ہوں گے تب تک کامیابی نہیں ملے گی۔ سرسید کے نزدیک مذہب ان اخلاقی اور روحانی قدروں سے پہچانا جاتا ہے جو انسانیت ، خدمت خلق ، باہمی محبت، ایثار و قربانی اور انصاف کو عام کرتی ہیں۔ انہوں اپنی پوری زندگی تعلیم کو عام کرنے اور توہم پرستی کو دور کرنے میں صرف کی۔

 

سرسید احمد خاں کی تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے پنڈت جواہر لعل نہرو نے کہا تھا کہ ’’سرسید نے اپنی پوری قوت جدید تعلیم کی طرف مرکوز کر دی اور اپنی قوم کو ہم نوا بنانے کی کوشش کی۔ وہ اپنی قوم کو کسی دوسری طرف متوجہ ہونے نہیں دینا چاہتے تھے کیوں کہ یہ ایک مشکل کام تھا اور مسلمانو ں کی ہچکچاہٹ دور کرنا اور مشکل تھا۔‘‘ سرسید نے تعلیم ہی کو کامیابی کی کنجی تصور کیا اور وہ تعلیم ہی کو برائی بھلائی میں تمیز کرنے، ایجادات و اختراعات کو سمجھنے اور اخلاق وکردار کی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے تھے۔

 

۱۸۶۴ء میں سر سید احمد خاں نے ’’ٹرانسلیشن سوسائٹی‘‘ قائم کی جو آگے چل کر ’’سائنٹفک سوسائٹی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی جس کے واسطے سے وہ مغربی اقوام کے علم و ادب سے مشرق کے بے شمار لوگوں کو روشناس کرانا چاہتے تھے۔ یہ سوسائٹی سر سیداحمد خاں کے ساتھ علی گڑھ منتقل ہوگئی۔ اس دور میں سیداحمد نے ایک ہی نعرہ وضع کیا: ’’تعلیم حاصل کرو،’’تعلیم حاصل کرو،’’تعلیم حاصل کرو۔‘‘

 

ہم (ہند و اور مسلمان) ایک ہی اناج کھاتے ہیں، ایک ہی دریاکا پانی پیتے ہیں اور ایک ہی ہوا میں سانس لیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان ہندوستان نامی دلہن کی ۲؍ خوبصورت آنکھیں ہیں۔ کسی ایک کی کمزوری سے دلہن کی خوبصورتی ماند پڑ جائے گی۔ ہر ترقی کی بنیاد تعلیم ہے۔

اگر کسی قوم کو ترقی کرنی ہے تو اسے معلومات کے خزانے پر قبضہ کرنا ہوگا۔قوم کو ترقی کرنے کے لیے ایک اور چیز پر دھیان رکھنا ہوگا، اور وہ ہے بھائی چارہ اور ملک کے تمام لوگوں سے اتحاد۔

 

ہر شخص کو چاہئے کہ وہ ملک میں اتحاد کی فضا قائم رکھے۔

۔ ہمیشہ وہ کام کرو جس کیلئے تمہارا دل گواہی دے کہ یہ صحیح ہے، وہ کام نہ کرو جس کیلئے تمہارا دل آمادہ نہ ہوتا ہو۔

۔ ہمیشہ آگے بڑھتے رہو۔ جدید تعلیم حاصل کرو۔ لوگوں کے قدم سے قدم ملا کر چلتے رہو۔

 

ملک کی ترقی افراد کے کام کے تئیں دیانتداری اور لوگوں کے تئیں ہمدردی کا مجموعہ ہے۔ اسی طرح کسی ملک کی تنزلی افراد کی سستی، کاہلی، بد دیانتی اور خودغرضی کا مجموعہ ہے۔

 

۔ انسان اپنا خود سب سے بڑا استاد ہوتا ہے۔

 

۔ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور اسے ایک بہتر جگہ بنانے کے لیے ہر شہری ذمہ دار ہے۔ اس لیے بلا امتیاز نسل اور مذہب انسان کو اپنے ملک کو بہتر بنانے کی جانب توجہ دینی چاہئے۔

۔ جب تک ہم ترقی نہیں کرتے اور جدید علوم حاصل نہیں کرتے ہمیں یونہی مسترد کیا جاتا رہے گا۔

 

سرسید احمد خان ان عظیم ہستیوں میں تھے جنہوں نے ہماری تاریخ پر غیر فانی نقش چھوڑا ہے۔ وہ مر جانے کے باوجود ہزاروں، لاکھوں دلوں میں زندہ ہیں۔ انہوں نے تعلیم و تہذیب، ادب و صحافت، مذہب و سیاست ہر میدان میں بڑے انقلابی کارنامے انجام دیے اور اپنی فکری و عملی قیادت سے قوم کا رُخ مایوسی سے امید کی طرف اور بے عملی سے محنت و جستجو کی طرف موڑ دیا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس عظیم محسن کی ساری زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ اپنی چھوٹی سے حیات مستعار میں اتنے کارہائے نمایاں انجام دیے جو فرد واحد کیا اکیڈمیوں اور انجمنوں کے لیے بھی ممکن نہیں۔ سرکاری ملازمت اختیار کی اور اس کا حق پورا پورا ادا کیا۔ اس کے ساتھ کم از کم 15 انجمنیں بنائیں، ادارے قائم کیے اور تحریکیں برپا کیں۔

 

معمارِ قوم سرسید احمد خان کو سچا اور حقیقی خراج عقیدت یہی ہوگا کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلیں،جدید تعلیمی ادارے قائم کریں اور قوم کو تعلیم یافتہ بنائیں۔ہر مدرسہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے لیے مستقل اسکول کا قیام عمل میں لائے- آپ علیہ الرحمہ کو یہی ایک عظیم خراج عقیدت ہوگا کہ ان کے تعلیمی مشن کو آگے بڑھایا جائے –

 

جاری کردہ

شعبہ نشرواشاعت ہاکیہ

 

17-10-2024

 

 

َ

spot_imgspot_img

FOLLOW US

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Al Shifa Diagnostic Laboratory Surankote

- Advertisment -spot_imgspot_img
spot_imgspot_img

Most Popular

Recent Comments