امیرالدین زرگر سرنکوٹ/= سرنکوٹ میں جہاں بہشتر تعلیمی اداروں کی حالت خستہ ہے وہیں گاؤں سانگلہ میں موجود گورمنٹ پرائمری اسکول کماراں سانگلہ کی عمارت عرصہ دراز سے خستہ حالی کی شکار ہے جہاں زیرے تعلیم طلباء وطالبات غیر محفوظ ہیں عمارت پوری طرح بوسیدہ ہو چکی ہے جس کی وجہ سے چھت سے سیمنٹ کے بڑے بڑے ٹکڑے گرتے ہیں اور بچے اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں مذکورہ عمارت کی خستہ حالی کے حوالے سے کئی مرتبہ چیف ایجوکیشن آفیسر پونچھ سے بات کی گئی زبانی دعوے کیے گئے لیکن زمینی سطح پر اس وقت تک کوئی عملی کام نہیں کیا گیا سات ماہ قبل چیف ایجوکیشن آفیسر پونچھ نے کہا تھا کہ ایک ہفتے کے اندر مذکورہ اسکول کے طلباء کو کرایہ پر کمرہ فراہم کیا جائے گا جہاں طلباء محفوظ رہیں گے اور عمارت کی مرمتی بھی کی جائے گی لیکن سات ماہ مکمل ہونے جا رہے ہیں اب تک کوئی مصبت حل نہیں کیا گیا جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محکمہ تعلیم کے آفیسران زبانی دعوے کر کے اعلّی حکام کی آنکھوں میں دوھول جونک رہے ہیں اور بچوں کی جان جوکھم میں ڈال کر اپنی صفائیاں پیش کرتے ہیں اس پر والدین نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سرکار انرول بڑے کی بات کر رہی ہے وہیں دوسری طرف تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حالت اس قدر خستہ ہے کہ مویشی خانے سے بھی بدتر ہے تاہم رابطہ کرنے پر چیف ایجوکیشن آفیسر پونچھ نے بتایا کہ ایک میٹنگ کے دوران میں نے کافی عمارتوں کی بات کی ہے مذکورہ عمارت کی ڈی پی آر بنا کر بیجھیں گے جیسے ہی سینگشن ملتی ہے اس بعد عمارت کا کام شروع کیا جائے گا
Al Shifa Diagnostic Laboratory Surankote






