Saturday, September 12, 2026
spot_img
HomeLatest/تازہ ترینسرنکوٹ کی سیاست میں ’چوہدری اکرم‘ کا بڑا نام؛ مقابلہ مشتاق بخاری...

سرنکوٹ کی سیاست میں ’چوہدری اکرم‘ کا بڑا نام؛ مقابلہ مشتاق بخاری کے ساتھ، شاہنواز دوڑ سے باہر

جموں و کشمیر کی سیاسی بساط پر سرنکوٹ اسمبلی حلقہ ہمیشہ سے ہی ایک غیرمعمولی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس حلقے نے دوبارہ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن کر خود کو نمایاں کیا ہے، اور 2024 کے اسمبلی انتخابات نے اس حلقے کی سیاست میں نئے ابعاد کو اجاگر کیا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں چوہدری محمد اکرم کی نیشنل کانفرنس کے ٹکٹ سے محرومی اور آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترنے کی صورتحال ہے۔
چوہدری محمد اکرم، سرنکوٹ کے نامور گوجر رہنما ہیں، جو اپنے والد، مرحوم چوہدری محمد اسلم کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ مرحوم چوہدری محمد اسلم، جو کانگریس کے سینئر رہنما اور جموں و کشمیر اسمبلی کے سابق سپیکر تھے۔ اُن کی سیاسی بصیرت اور عوامی خدمت کا جذبہ چوہدری اکرم پر گہرے اثرات چھوڑ گیا، جس نے چوہدری اکرم کو اپنی سیاسی زندگی میں عاجزی اور انکساری کا پیکر بنا دیا۔
چوہدری اکرم نے اپنے والد سے سیاست اور اخلاقیات کی تعلیم قریب سے حاصل کی ہے۔ اُن کی قیادت کی خصوصیات فطری طور پر ان کے خون میں شامل ہیں۔ عوامی خدمت کے میدان میں ان کی جدوجہد اور مقامی مسائل کے حل کیلئے ان کی انتھک محنت ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔
یہ امر حیران کن ہے کہ چوہدری اکرم کی عوام میں بے پناہ مقبولیت اور خدمات کے باوجود، نیشنل کانفرنس نے انہیں 2024 کے اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں حیرت و استعجاب کی لہر دوڑا دی بلکہ پارٹی کارکنان میں بھی ایک قسم کی ناراضی اور مایوسی پیدا کی۔ نیشنل کانفرنس نے سرنکوٹ کی سیٹ اپنی اتحادی جماعت کانگریس کے حوالے کی، جس کے تحت چوہدری شاہنواز کو میدان میں اتارا گیا۔ لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ چوہدری اکرم کی قیادت میں نیشنل کانفرنس کا پورا کیڈر اور ان کا ووٹ بینک، چوہدری اکرم کی حمایت میں کھڑا ہو گا۔
زمینی حقائق اور عوامی رجحانات کے مطابق، چوہدری شاہنواز سرنکوٹ کے انتخابی میدان میں تیسرے نمبر پر بھی مشکل سے جگہ بنا پائیں گے۔ ان کی انتخابی مہم کو وہ عوامی حمایت نہیں مل سکی جو انتخابی فتح کے لیے لازم و ملزوم ہوتی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے اس فیصلے نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ پارٹی پیرپنچال کے رہنماؤں کو زیادہ پسند نہیں کرتی اور اپنے سیاسی مفادات کی خاطر مقامی قیادت کو نظرانداز کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔
سرنکوٹ میں جاری اسمبلی انتخابات میں اصل معرکہ دو اہم امیدواروں کے درمیان ہوتا دکھائی دے رہا ہے: چوہدری محمد اکرم، جو آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں، اور بی جے پی کے امیدوار سید مشتاق بخاری کے درمیان۔ بی جے پی نے اپنی انتخابی مہم میں پہاڑی طبقے کو ایس ٹی (شیڈولڈ ٹرائب) کا درجہ دلانے کے وعدے کو شامل کیا ہے، تاکہ اس طبقے کے ووٹ اپنی جھولی میں ڈال سکے۔
سرنکوٹ میں پہاڑی طبقے کی اکثریت ہونے کے باعث بی جے پی کے لیے یہ ایک اہم پہلو ثابت ہو سکتا ہے۔ مشتاق بخاری کی انتخابی مہم میں اس نعرے کو زور و شور سے اٹھایا جا رہا ہے، اور پہاڑی ووٹروں کے لیے یہ ایک جذباتی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ بی جے پی اس حلقے میں کافی مضبوط ہو سکتی ہے۔
دوسری طرف، چوہدری اکرم کی مقبولیت اور ان کی عوامی خدمات کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ایک مستحکم امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں اور ان کی مہم نے عوامی سطح پر کافی پذیرائی حاصل کی ہے۔ ان کی شخصیت اور سیاسی وراثت کی بدولت گوجر برادری سمیت دیگر طبقات میں بھی انہیں زبردست حمایت حاصل ہو رہی ہے۔
چوہدری شاہنواز، جو کانگریس کے امیدوار ہیں، کو ان انتخابات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ عوامی سروے اور تجزیوں کے مطابق ان کا ووٹ بینک بہت کمزور ہے، اور ان کی مہم کو وہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی جو انتخابی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ اگرچہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے اتحاد کو کچھ حلقوں میں پذیرائی ملی ہے، لیکن سرنکوٹ میں یہ اتحاد اپنی مقبولیت قائم کرنے میں ناکام نظر آ رہا ہے۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ سرنکوٹ میں کانگریس کا ووٹ بینک پہلے ہی تقسیم ہو چکا ہے، جس کا ایک بڑا حصہ چوہدری اکرم کی حمایت میں منتقل ہو چکا ہے۔ اگر آزاد امیدوار کے طور پر سہیل ملک بھی میدان میں آ جاتے ہیں تو وہ مشتاق بخاری اور چوہدری شاہنواز دونوں کے ووٹ بینک کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں چوہدری شاہنواز کے لیے کامیابی کا حصول مزید دشوار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
سرنکوٹ کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 25 ستمبر 2024 کو ووٹنگ ہو گی، جس دن کے نتائج نیشنل کانفرنس کے فیصلے کی درستگی یا غلطی کا تعین کریں گے۔ عوامی رجحانات اور موجودہ سیاسی منظرنامے کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ چوہدری اکرم کے پاس آزاد امیدوار کے طور پر کامیابی حاصل کرنے کا ایک مضبوط موقع ہے۔ اس دن کے نتائج نیشنل کانفرنس کی قیادت کو بھی یہ سبق دے سکتے ہیں کہ مقامی قیادت اور عوامی جذبات کو نظرانداز کرنے کے نتائج ہمیشہ مثبت نہیں ہوتے۔ اگر چوہدری اکرم انتخابات میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہو گی بلکہ ان کی اہمیت اور مقبولیت کو بھی اجاگر کرے گی۔
سرنکوٹ کے انتخابات میں چوہدری اکرم اور مشتاق بخاری کے درمیان مقابلہ اس حلقے کی سیاسی صورتحال کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔ چوہدری اکرم کی آزاد امیدوار کے طور پر شرکت نے نیشنل کانفرنس کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں اور کانگریس کی پوزیشن کو بھی کمزور کر دیا ہے۔
سرنکوٹ کے عوام کے لیے یہ انتخابات ایک اہم موقع ہیں کہ وہ اپنی سیاسی قیادت کا انتخاب کریں۔ اگرچہ حتمی نتائج کا انتظار باقی ہے، لیکن موجودہ حالات میں چوہدری اکرم کو ایک مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو نیشنل کانفرنس کے فیصلے کے برعکس عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
سرنکوٹ کی سیاست میں یہ انتخابات ایک نئی سمت کا تعین کریں گے اور اس حلقے کے مستقبل کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

ویب ڈیسک
(کاپی رائٹ: تمام حقوق صرف پیرپنچال سپیکس کے پاس محفوظ ہیں)

spot_imgspot_img

FOLLOW US

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Al Shifa Diagnostic Laboratory Surankote

- Advertisment -spot_imgspot_img
spot_imgspot_img

Most Popular

Recent Comments