Sunday, September 13, 2026
spot_img
HomeArticleمشتاق بخاری کون ہیں؟ اپنے امیدوار کو جانیں

مشتاق بخاری کون ہیں؟ اپنے امیدوار کو جانیں

مشتا ق بخاری کون ہیں؟77سالہ مشتاق بخاری کا تعلق ضلع پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ سے ہے، وہ اسمبلی حلقہ سرنکوٹ (جب مینڈھر بھی سرنکوٹ کا حصہ تھا) کے پہلے بلامقابلہ منتخب ہوئے ایم ایل اے پیر جماعت علی شاہ کے بھتیجے اورمحمد مقبول شاہ کے فرزند ہیں۔سال1977میں اسمبلی انتخابات میں ’جنتا پارٹی ‘کی ٹکٹ پر الیکشن لڑ کر اپنی عملی سیاست کا آغاز کیاتھا جس میں ا±نہیں922یعنی کہ 4.16فیصد ووٹ ملے تھے۔ سال 1977کے اسمبلی چناو¿ میں سرنکوٹ حلقہ کے راے دہندگان کی کل تعداد32764تھی جس میں سے68.84فیصد نے حق رائے دہی دہی کا استعمال کیاتھا۔اس الیکشن میں کانگریس کے چوہدری محمد اسلم نے 11608لیکر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ محمد سعید قاضی 9346ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ محمد ایوب شبنم اور نذیر احمد نے آزاد ا±میدوار الیکشن لڑتے ہوئے بالترتیب دونوں نے 153اور138ووٹ حاصل کے تھے۔ سال 1978کو باقاعدہ نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی اور زیادہ وقت صوبائی دفتر جموں میں پارٹی کے امور میں گذارا۔ا±س کے بعدسال1996کے انتخابات میں 47201میں سے 27275یعنی کہ 57.78فیصد ووٹ حاصل کر کے پہلی مرتبہ ایم ایل اے بنے۔2002میں انہوں نے 33254میں سے 15243یعنی کے 45.84فیصد ووٹ حاصل کر کے مسلسل دوسری مرتبہ الیکشن جیتے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی کابینہ میں وزیر مملکت بھی رہے۔2008اسمبلی انتخابات میں مشتاق بخاری نے 26051ووٹ لئے مگر 2051ووٹوں کے فرق سے کانگریس کے چوہدری محمد اسلم سے الیکشن ہارگئے۔عمر عبداللہ قیادت والی مخلوط حکومت کے دور میں وہ 19جنوری2010سے 15جنوری2013تک وہ جموں وکشمیر پہاڑی مشاورتی بورڈ کے وائس چیئرمین بھی رہے۔2014الیکشن میں 22520ووٹ حاصل کئے مگر پھر چوہدری اسلم کے فرزند چوہدری اکرم کے ہاتھوں پھر شکست ہوئی۔قابل ِ ذکر ہے کہ 1977تک سرنکوٹ مینڈھر اسمبلی حلقہ کا حصہ تھا۔ 77کے بعد اب تک سرنکوٹ میں 7مرتبہ اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں جس میں دو مرتبہ مشتا ق احمد بخاری نے جیت درج کی جبکہ 4مرتبہ چوہدری محمد اسلم اور ایک مرتبہ ا±ن کے فرزند ارجمند چوہدری اکرم کامیاب رہے۔ 1962کو مشتاق احمد بخاری کے چاچا پیر جماعت علی شاہ بلامقابلہ ایم ایل اے بنے جبکہ 1967کو چوہدری محمد اسلم بلامقابلہ چنے گئے۔

نیشنل کانفرنس کیوں چھوڑی تھی؟

اتوار 20-02-2022 کو سابق وزیر نے جموں یونیورسٹی میں پی ٹی ایس ٹی فورم کے زیر اہتمام کنونشن میں شرکت کی جس میں یو ٹی بھر کے 450 سے زائد پہاڑی مندوبین نے شرکت کی اور مشتاق بخاری نے کھل کر اُس پارٹی کی حمایت کرنے کی نشاندہی کی جو ایس ٹی کا درجہ دے گی۔ نیشنل کانفرنس قیادت بخاری کی اِس میٹنگ میں شرکت سے ناراض ہوگئی کیونکہ اس میں بھاجپا سے وابستہ پہاڑی لیڈران بھی موجود تھے۔منگل کو مشتاق بخاری نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے ا±ن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جس دوران موصوف نے ا±ن سے گذشتہ دنوں جموں یونیورسٹی میں پہاڑی قبیلہ کے کنونشن میں ا±ن کی شرکت اور وہاں پر دیئے گئے بیان متعلق اعتراض ا±ٹھایا اور تلخ سوالات کئے جس کے بعد مشتا ق بخاری نے پارٹی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔وہ سال 1978سے پارٹی سے منسلک تھے۔

مشتاق بخاری جوکہ اُس وقت نیشنل کانفرنس کے صوبائی نائب صدر تھے جبکہ پارٹی سنیئر نائب صدر عہدے پر بھی فائض رہ چکے تھے۔22فروری 2024کو بعد دوپہر انہوں نے تحریری استعفیٰ پیش کیا جس میں انہوں نے پارٹی صدر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ ”میں پارٹی کی بنیادی ممبر شپ سے استعفیٰ دیتا ہوں، آپ بخوبی جانتے ہیں کہ میں پارٹی کا وفادار سپاہی رہا اور نشیب وافروز میں ساتھ دیا رہا لیکن رواں پہاڑی قبیلہ کی تحریک کے تئیں آپ کے منفی رویہ نے مجھے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا،میں آپ کا شکرگذار ہوں“۔

اُس وقت مشتا ق بخاری نے کہاتھا ”میرے لئے پہاڑی کاز سب سے اہم ہے، کیونکہ میری پہچان اسی وجہ سے ہے،ایس ٹی مرکزی سرکار نے دینا ہے اور مرکز میں بھاجپا کی سرکار ہے، لہٰذا اس کاز کے لئے بھاجپا کے کسی لیڈر سے بات کرنا یا کسی ایسی تقریب جہاں پر حکمراں جماعت کے لیڈران موجود ہوں، جانا کوئی گناہ نہیںلیکن نیشنل کانفرنس قیادت کو اِس پر اعتراض تھا، اِس لئے میں نے چار دہائیوں پر محیط پارٹی کے ساتھ اپنے سیاسی رشتے کو توڑ دیا“۔انہوں نے کہاکہ جو بھی سیاسی جماعت پہاڑی قبیلہ کو شیڈیول ٹرائب کا درجہ دے گی وہ ا±سی میں شامل ہوں گے ، چائیے وہ آر ایس ایس ہو، بی جے پی یو یا پھر جماعت اسلامی، فی الحال وہ کسی بھی جماعت میں نہیں جانا چاہتے، وہ خالص پہاڑی کاز کے لئے ہرقسم کے زورودباو¿ سے آزاد ہوکر کام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ اپنی قوم کے لئے ہندوستان کے ساتھ ہاتھ ملا سکتے ہیں تو پھر میں اپنے قبیلہ کی خاطر بھاجپا کے کسی لیڈر کے ساتھ بات یا ملاقات تک بھی نہیں کرسکتا۔پہاڑی قبیلہ اِ س وقت غیر یقینی صورتحال سے دو چار ہے، وہ اِس نازک مرحلہ پر قبیلہ کے مفادات پر پارٹی مفادات کو ہرگز ترجیحی نہیں دے سکتے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ”سرنکوٹ میں نیشنل کانفرنس بخاری کی وجہ سے تھی ، نہ کہ بخاری این سی کی وجہ سے۔یاد رہے کہ 20فروری کو جموں یونیورسٹی میں پہاڑی کنونشن ہوا تھا جس میں سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر پہاڑی قبیلہ کی سیاسی قیادت نے شرکت کی تھی۔

جموں یونیورسٹی میں منعقدہ کنونشن جس کی صدارت مشتاق بخاری نے کی تھی میں بھاجپا صدرراوندر رینہ مہمان خصوصی تھے۔ تقریب سے اپنے خطاب میں مشتاق بخاری نے کہاتھاکہ ”اگر بی جے پی پہاڑی قبیلہ کے دیرینہ ’ شیڈیول ٹرائب ‘مطالبہ کو پورا کرے گی تو وہ بھاجپا میں شامل ہونے والے پہلے شخص ہوں گے “۔

رواں سال یعنی15فروری2024کو مشتاق بخاری نے پہاڑی قبیلہ کو شیڈیول ٹرائب کا درجہ ملنے کے بعد باقاعدہ طور بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

ویب ڈیسک
نوٹ: مضمون کے تمام کاپی رائٹس پیپرنچال سپیکس کے پاس محفوظ ہیں۔

 

spot_imgspot_img

FOLLOW US

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Al Shifa Diagnostic Laboratory Surankote

- Advertisment -spot_imgspot_img
spot_imgspot_img

Most Popular

Recent Comments